|
| تماشا نہ ہوا۔....... اسد اللہ غالب | تماشا نہ ہوا۔۔ اسد اللہ غالب اب تو یہ گنتی مشکل ہو گئی ہے کہ پونے تین سال کے عرصے میں جمہوریت دشمنوں کو کتنی مرتبہ شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ سلمان تاثیر کے ساتھ زرداری حکومت کو بھی ”بے جنازہ“ لحد میں اتار دیا جائے گا۔ صد حیف! یہ آرزو پوری نہ ہو سکی ۔انہوں نے پہلے توسیاسی پیادوں کو آگے کیا ۔ رشوت ستانی کے الزامات کی آندھیاں چلیں اور حکومت یا عدالت کو یہ موقع بھی دینے کیلئے کوئی تیار نہ تھا کہ وہ اپنی تحقیقات کر کے کوئی فیصلہ کریں کہ حج میں کرپشن ہوئی یا نہ ہوئی۔ کسی نے کی یا نہ کی ،بس الزامات کا ایک اندھا دھند طوفان تھا جس میں وزیر اعظم کے بیٹوں تک کو لپیٹ میں لینے کی کوشش کی گئی۔ پھر حکومت سے اتحاد کے خاتمے کا ایک سلسلہ چلا‘ پہل مولانا فضل الرحمن نے کی‘ پھر ایم کیو ایم نے اپنا فیصلہ سنایا‘ ٹی وی اینکروں نے گونجدار آواز میں اعلان کیا کہ حکومتی اتحاد ٹوٹ گیا ہے۔ یہ اعلان درحقیقت ان کی نا آسودہ خواہشات کا آئینہ دار تھا۔ حکومت نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئی تھیں‘ وہ پکے پاﺅں حکومت میںآئی تھی ۔اسے عوام کا مینڈیٹ حاصل تھا۔ وزیر اعظم کو ایوان نے اتفاق رائے سے منتخب کیا تھا اور صدر کو دو تہائی سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔ ان کو اقتدار سے باہر کرنے کیلئے صرف ایک راستہ تھا کہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے ۔یہ حساب کتاب کا سوال تھا ،خواہشات اور جذبات سے اس کا حل تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ ایوان میں عدم اعتماد کی تحریک کیلئے کسی پارلیمانی کمیٹی کے پاس ووٹ نہیں ہیں۔ اس پر میرے ایک دوست کالم نویس نے لکھا کہ یوسف رضا گیلانی اب ”بائی ڈیفالٹ“ وزیر اعظم ہیں لیکن مجھے اس منطق، اس دانش اور اس اصطلاح سے اختلاف ہے۔ جب تک وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر کے منظور نہیں کرا لی جاتی، وزیر اعظم اس پارلیمنٹ کے متفقہ دوٹوں سے منتخب تصور کئے جائیں گے۔ یہی صورتحال جناب صدر کی ہے۔ ان کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد ہی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ ورنہ وہ اپنے منصب پر موجود ہیں اور ان کو باہر نکالنے کیلئے صرف وہی راستہ ہے جو بھٹو شہید اور بینظیر شہید کیلئے استعمال کیا گیا اور آفرین ہے صدر زرداری پر کہ وہ اس طریقے کے سوا کسی اور طرح ایوان صدر کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔جب عوام اور پارلیمنٹ کا مینڈیٹ موجود ہو تو پھر یہ سارا کھیل کس لئے ہے۔ محض اس لئے کہ پیپلز پارٹی کو ٹک کر، سکون کے ساتھ حکومت کرنےکا موقع نہ دیا جائے۔ پونے تین برس میں آئے روز حکومت گرنے کی افواہوں کے باوجود اس حکومت نے آئین میں دو مرتبہ مکمل اتفاق رائے سے ترمیم کا کارنامہ انجام دیا۔ این ایف سی ایوارڈ کو متفقہ طور پر منظور کر ایا‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم کو مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑا کیا۔ لوڈشیڈنگ کی شدت کو کم کرنے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بیک زبان ”بچت پلان“ منظور کیا۔ عدلیہ کو بحال کر کے قومی ایجنڈے کی تکمیل کی گئی۔ یہ سارے کام اس حکومت نے انجام دیئے جس کا پل پل کا سکون غارت کر دیا گیا تھا۔ اس حکومت کو اگر مکمل سکون نصیب ہو جائے تو یہ ایسے کام کر سکتی تھی جن کی وجہ سے اگلے الیکشن میں وہ واضح اکثریت حاصل کر لیتی۔ بس یہی واحد مقصد ہے جس کیلئے پی پی پی کے تمام مخالف دن رات کوشاں ہیں کہ اسے ہر لمحے دباﺅ میں رکھا جائے۔ پی پی پی دباﺅ میں رہے گی تو ظاہر ہے کہ عوام کی بھلائی کیلئے اپنے منشور پر عمل نہیں کر پائے گی اور اس کا نتیجہ پہلے کی طرح ایک منقسم مینڈیٹ کی شکل میں نکلے گا جس میں ہر چھوٹی بڑی پارٹی آسانی کے ساتھ اپنا الو سیدھا کر لیتی ہے۔ اقلیتی حکومت سے مفادات کی تکمیل تو بہت آسان ہے ۔یہ کھیل 1988ءکے بعد سے جاری ہے۔ کسی حد تک پاکستان کی دونوں بڑی پارٹیوں کو اس کھیل کی سمجھ آ گئی ہے اور میثاق جمہوریت اس کھیل کے لئے ضرب کاری کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر چند میرے نزدیک بھی یہ میثاق قرآن وحدیث کا درجہ نہیں رکھتا لیکن ملک میں پائیدار جمہوریت کے قیام کیلئے یہ ٹھوس بنیاد ضرور فراہم کرتا ہے۔ میثاق جمہوریت میں دونوں پارٹیوں کی قیادت نے اپنے ماضی پر تین حرف بھیجنے پر کوئی عار محسوس نہ کی، اس لئے کہ محاذ آرائی کی سیاست نے دونوں کو کسی قابل نہ چھوڑا تھا، دونوں کو اپنی ٹرم پوری کرنے کا موقع نہ ملا تھا، ودنوں کی قیادت کرپشن کے الزامات کی زد میں آ گئی اور سیاسی انتقام کے جذبے کے تحت مقدمے قائم کئے گئے جو آج قبروں کا بھی پیچھا کر رہے ہیں۔ دونوں پارٹیوں کی قیادت جیلوں ،قلعوں اور جلاوطنیوں کے جہنم میں سلگتی رہی۔ میثاق جمہوریت آئندہ کیلئے اس مکروہ کھیل کے خاتمے کی امید دلاتا ہے۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ (ن) لیگ کے تمام تر تحفظات کے باوجود پی پی پی نے میثاق جمہوریت کیلئے اسی فیصد ایجنڈے پر عمل کر دکھایا ہے۔ چند ایک امور باقی ہیں جن میں غیر جانبداراحتسابی ادارہ اور آزاد الیکشن کمیشن کا قیام شامل ہے۔ پارلیمنٹ کے ایجنڈے پر یہ امور موجود ہیں۔ میں صدق دل سے سمجھتا ہوں کہ جس طرح (ن) لیگ نے اقتصادی مشکلات کے حل کیلئے وقتی طور پر حکومت کی طرف دست تعاون بڑھایا ہے اور وزیر اعظم نے کہا ہے کہ انہوں نے آگے بڑھ کردست تعاون تھام لیا ہے تو اگر اسی جذبے سے ملک کے باقی مسائل کے حل کیلئے بھی دونوں بڑی پارٹیاں باہمی تعاون کا جذبہ دکھائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان مشکلات سے نہ نکل سکیں جو تریسٹھ سالہ آزادی کی تاریخ کے نصف عرصے میں غاصب آمروں کی بداعمالیوں کا نتیجہ ہیں۔ بجلی کا کوئی بڑا منصوبہ منگلا اور تربیلا کے بعد نہیں بنا ،تعلیم صحت کے بجٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ صنعت وزارعت کی ترقی کیلئے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی گئی ،دوسری طرف نفرت اور تعصب کی آگ بڑھکانے کیلئے سوچے سمجھے منصوبے بنے۔ لسانی‘ نسلی‘ گروہی‘ صوبائی‘ علاقائی تقسیم کیلئے ایجنڈا مرتبہ کیا گیا۔ فرقہ وارانہ تشدد کی راہ ہموار کی گئی۔ انتہا پسندوں کی پیٹھ ٹھونکی گئی اور معاشرے میں عدم برداشت کے جرائم حلول کئے گئے۔ آج ہر طرف خون ہی خون ہے، بھوک ہی بھوک ہے، خود کش دھماکے اور خودسوزی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ پاکستان کا پرچم جلایا جا رہا ہے اور قومی ترانہ گانے پر سکولوں میں پابندی کی خبریں آ رہی ہیں۔ پاکستان جہنم سے بھی بدتر منظر پیش کر رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی ہمت ہے کہ اس نے اقتدار کا چیلنج قبول کیا ورنہ میں شرط لگانے کو تیار ہوں کہ بھارت جیسا ازلی دشمن اور امریکہ جیسی استعماری طاقت بھی آج کے پاکستان کے سلگتے ہوئے ماحول کو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگائیں گے لیکن یہ ملک ہمارا ہے، اسے ہم نے بنایا ہے ،کسی نے سونے کی طشتری میں رکھ کر ہماری خدمت میں پیش نہیں کیا۔ ہم نے اس کے لئے آگ اور خون کے سمندر کو عبور کیا ہے ،عصمتوں کی قربانی دی ہے، اب ملک مصائب والآم کا شکار ہے تو اس کوبچانا بھی ہمارا فرض ہے۔ کاش! جناب زرداری میری یہ عاجزانہ التجا پڑھ لیں۔ کاش! میاں نواز شریف میرے حقیر خیالات پر غور فرمائیں اور دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں،خلوص دل کے ساتھ، خلوص نیت کے ساتھ، پاکستان کو بچانے کے ایجنڈے پر متفق ہو جائیں۔ پاکستان قائم رہے گا اور انشاءاللہ قائم رہے گا تو پھر اپنی اپنی سیاست بھی ہوتی رہے گی ،جمہوریت بھی مستحکم ہو گی، بے آسرا و بے نوا طالب علم کوکتابیں بھی ملیں گی، بیوہ کی کٹیا میں چراغ بھی روشن ہو گا،غریب کا چولہا بھی جلے گا ،بیماریوں سے تڑپتے ہوئے انسانوں کو بھی علاج میسر آئے گا،ڈگریاں لے کر بے کار پھرنے والے آبرومندانہ طور پر باروزگار ہو سکیں گے۔ کارخانوں کی چمنیوں سے دھواں بلند ہوتا رہے گا، بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ سے نجات مل سکے گی اور قائد اعظم کے خوابوں کی تعبیر ملے گی، یوں بھٹو اور بینظیر کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی جلاو طنی بھی دکھی دلوں کیلئے اکسیر ثابت ہو سکے گی۔انہی دو پارٹیوں کا اتحاد ،جنونی ،جمہوریت دشمنوں کے عزائم کو خاک سیاہ کرتا رہے گا اور وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹے سیاسی گروپ بھی مرکزی دھارے کی سیاست کو فروغ دے سکیں گے۔
| Powered by Control Oye
|