Quran | Hadith | Seerat | Columns  | Newspapers  |  Photos   |E-Library |

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس، مسلح افواج کی آپریشنل سرگرمیوں کے معائنہ، نیٹوافواج کی واپسی اوریواین امن مشن کا جائزہ لینے کا فیص


Tuesday, 17 July 2012   08:34:09

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس، مسلح افواج کی آپریشنل سرگرمیوں کے معائنہ، نیٹوافواج کی واپسی اوریواین امن مشن کا جائزہ لینے کا فیصلہ ۔وزارت دفاع کا راولپنڈی میں پرانی جیل کے قریب پلاٹوں کے الاٹیوں کواصل رقم بمعہ مارک اپ واپس دینے کے بیان واپس لیتے ہوئے معذرت۔ایٹمی پروگرام انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،دفاعی کمیٹی سٹریٹجک پلان ڈویژن سے تفصیلی بریفنگ لینے کے ساتھ ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کےلئے سفارشات تیارکرے گی۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین مشاہدحسین سید کا اجلاس سے خطاب
  اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع و دفاعی پیداوار نے ملک میں سول اور فوجی اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تعلق کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے تا کہ نئی علاقائی صورتحال میں فیصل کن کردار ادا کیا جاسکے۔ دفاع اور سلامتی سے متعلق معاملات میں سول شمولیت کے لئے ان کے خدوخال کی تشکیل نو کے پیش نظر نئے تصورات پیش کیے جائیں گے جبکہ کمیٹی سالانہ بنیاد پر ڈیفنس پالیسی دستاویزات بھی تیار کرے گی۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر مشاہد حسین سید کی زیر صدارت پیر کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا۔ اجلاس میں وزارت دفاع اور اس کے ذیلی اداروں کے کام اور کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے اجلاس میں کمیٹی کے مستقبل کا پلان آف ایکشن پیش کیا اور کہا کہ قائمہ کمیٹی انسداد دہشتگردی کی حکمت عملی کے لئے وزارت کے مطابق سروسز ہیڈ کوارٹرز کے ساتھ رابطہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا ایٹمی پروگرام انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور کمیٹی سٹریٹجک پلان ڈویژن سے تفصیلی بریفنگ بھی لے گی اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کےلئے سفارشات تیار کرے گی۔ قائمہ کمیٹی نے مسلح افواج کی آپریشنل سرگرمیوں کا معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ 2014ءمیں نیٹو افواج کی واپسی اور اقوام متحدہ کے امن مشن کا بھی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا کمیٹی نے سول اور فوجی اداروں کے درمیان وسیع تر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی اور عالمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی سلامتی کے تحفظ کے سلسلے میں پالیسیاں تشکیل دینے کے لئے مربوط کوششیں کی جائیں۔ قائمہ کمیٹی نے گیاری سیکٹر کے شہداءکو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ کمیٹی کے ارکان نے ملکی دفاع کے اداروں کے آئینی کردار کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اجلاس میں سینیٹر طاہر حسین مشہدی ، فرحت اللہ بابر، سحر کامران اور راجہ ظفر الحق کے علاوہ سیکرٹری وزارت دفاع نرگس سیٹھی، چیئرمین پی آئی اے راﺅ قمر سلیمان، ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی اجلاس کے دوران وزارت دفاع نے اپنے اس تحریری بیان کو واپس لیتے ہوئے معذرت کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو حکم دیاہے کہ راولپنڈی میں پرانی جیل کے قریب پلاٹوں کے الاٹیوں کو اصل رقم بمعہ مارک اپ واپس کر دی جائے۔ اجلاس کے دوران کمیٹی کے ایک فرحت اللہ بابر نے اس بیان کو چیلنج کیا اور کہا کہ اگر یہ بات غلط ثابت ہوگئی تو یہ توہین عدالت کے ساتھ ساتھ کمیٹی کے استحقاق کے بھی خلاف ہوگا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 1998ءمیں پنجاب کے ہاﺅسنگ ڈیپارٹمنٹ نے پرانی جیل کی جگہ پر کامیاب بولی دہندگان کو کھلی نیلامی کے ذریعے ایک ایک کنال کے 25پلاٹ الاٹ کئے تھے جس کے بعد الاٹیوں نے نہ صرف پوری رقم ادا کی بلکہ مکانات کو تعمیرکرنے کی منظوری بھی حاصل کی تاہم مکانات کی تعمیر کے موقع پر کنٹونمنٹ حکام نے سیکورتی نکتہ نظر کے باعث انہیں متعلقہ جگہ سے نکال دیا جس کے بعدسے وہ گذشتہ 14 سال سے عدالتی فیصلے کے باوجود آج تک اپنے حق کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن انہیں مکانات کی تعمیر کی اجازت نیں ملی۔اس عرصہ میں کئی الاٹی گھر بنانے کا خواب دیکھتے دیکھتے دنیا سے چل بسے۔ معاملہ پر غور کے دوران کنٹونمنٹ بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل نے وزارت کے اس موقف کو دہرایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو احکامات جاری کئے کہ وہ الاٹیوں کو ادا کردہ رقم بشمول مارک اپ ادا کرے۔ ڈی جی کے مطابق الاٹیوں کو رقم کی واپسی کا معاملہ وفاق اور صوبائی حکومت کو طے کرنا چاہئے جس پر سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کا متعلقہ حصہ پڑھ کر سنایا جس میں درحقیقت کنٹونمنٹ بورڈ کے حکام اور دیگر ذمہ داران کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ درخواست گزاروں کو سہولت دے اور منظور کردہ پلان کے مطابق انہیں الاٹ شدہ پلاٹوں پر تعمیرات کرنے میں مداخلت نہ کی جائے۔عدالت نے پولیس کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ اگر الاٹیوں کی جانب سے اپنے پلاٹوں پر تعمیرات کے دوران کوئی مداخلت کرتا ہے تو ان کے خلاف کیس درج کیا جائے۔فرحت اﷲ بابر نے عدالتی فیصلہ کا متعلقہ حصہ پڑھ کر سناتے ہوئے تجویز پیش کی کہ سیکرٹری دفاع کوکسی ایسی بات پر اصرار کرنے کی بجائے جو بعد میں غلط ثابت ہو وزارت دفاع کے موقف کا دوبارہ جائزہ لینا چاہئے۔ سیکرٹری دفاع نرگس سیٹھی نے اس امر سے اتفاق کیا کہ پڑھے گئے عدالتی فیصلہ کے اقتباس سے تازہ عدالتی فیصلہ کی عکاسی ہوتی ہے۔ متعلقہ رکن نے کنٹونمنٹ بورڈ کے اس موقف پر بھی اعتراض کیا کہ کنٹونمنٹ بورڈ نے فیصلہ کے خلاف نظرثانی کرنے یا اپیل دائرکی ہے جس پر سیکرٹری دفاع نرگس سیٹھی نے کمیٹی میں جمع کرایا گیا اپنا تحریری بیان واپس لیا اور کہاکہ اس معاملہ کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میںزیر غور لایاجائیگا جس کے بعد محرک نے اس معاملہ پر زور دیا نہیں دیا۔ اس سوال کے جواب میں کہ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کے تعلیمی اداروں کو کیوں وزارت دفاع کے ماتحت رکھا گیا ہے سیکرٹری دفاع نے کہاکہ اس معاملہ کا بھی آئندہ اجلاس میں جائزہ لیاجائے گاکنٹونمنٹ بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سویلین ہونے کے حوالے سے سیکرٹری دفاع نے کہاکہ یہ معاملہ محکمہ کے سویلین ملازمین نے بھی اٹھایا ہے اور وزارت یہ عہدہ سویلین کو دینے کا جائزہ لے رہی ہے۔ اجلاس میں اپریل 1999ءمیں اے ایف وی رینج نوشہرہ میں 88 روپے فی مرلہ کے حساب سے 18ہزار ایکڑ اراضی دینے کا معاملے پر بھی اعتراض اٹھایا گیا اجلاس کوآگاہ کیاگیا کہ اس معاملہ کو ضلع نوشہرہ کے ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا جس نے بعد ازاں88 روپے فی مرلہ کی رقم بڑھا کر 589 روپے فی مرلہ کرنے کے ساتھ 6 فیصد مارک اپ مقرر دینے کی ہدایت کی تھی تاہم ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نوشہرہ کے فیصلہ کے خلاف اپیل پر پشاور ہائی کورٹ نے معاوضہ کی رقم 589 روپے فی مرلہ سے بڑھا کر 1500 روپے اور 6 فیصد مارک مقررکی تھی جس پر سیکرٹری نے اجلاس نے اجلاس کو بتایا کہ متعلقہ امور پر وزارت کا موقف آئندہ اجلاس میں بیان کریںگی جس پر چیئرمین نے ہدایت کی کہ اس معاملہ کو آئندہ اجلاس میں ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔