خبرنامہ

شدت پسندی اور دین میں غلو کا مقابلہ کیا جائے گا، شاہ سلمان

ریاض:(ملت+آئی این پی)سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ جو کوئی بھی انتہاپسندی یا دین میں غلو کی طرف دعوت دے گا مملکت اس کا مقابلہ کرے گی اور ہم نے ریاست کے امن اور معاشرے کے تحفظ اور حرمین شریفین کی خدمت کے واسطے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لانے کا مصمم ارادہ کیا ہوا ہے۔سعودی میڈیاکے مطابق گزشتہ روز نئی سعودی مجلس شوری سے خطاب کرتے ہوئے شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ مملکت بین الاقوامی بحرانات کے کسی بھی سیاسی حل کو سپورٹ کرتی ہے تاکہ ترقی کی کوششوں کے واسطے راہ ہموار کی جاسکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم عالمی امن کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔سعودی فرماں روا کے مطابق ویژن 2030 کا مقصد شہریوں کو اچھی زندگی گزارنے کا راستہ پیش کرنا ہے اور اقتصادی اصلاحات کے سلسلے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کا سہارا لیا جائے گا۔شاہ سلمان نے باور کرایا کہ یمن کا امن سعودی عرب کے امن سے ہے اور ہم یمن کے اندرونی امور میں مداخلت کے لیے کوشاں نہیں ہیں۔اس سے قبل منگل کے روز سعودی فرماں روا نے ریاض کے قصرِ یمامہ میں سعودی مجلس شوری کے مرد اور خواتین ارکان سے ملاقات کی۔ شوری کے ارکان نے شاہ سلمان کے سامنے اپنی رکنیت کا حلف اٹھایا۔ اس موقع پر اراکین شوری سے خطاب کرتے ہوئے شاہ سلمان نے باور کرایا کہ شاہ عبدالعزیز کے دور میں تاسیس کے وقت سے ہی شوری مملکت کا منہج ہے۔ انہوں نے مجلس شوری کے ارکان پر زور دیا کہ وہ وطن اور ہم وطنوں کے مفادات کو پورا کرنے کے شدید خواہش مند ہوں۔مجلس شوری کے سربراہ الشیخ عبد اللہ آل الشیخ کے مطابق مجلس نے اپنی سابقہ مدت کے دوران پانچ سو نوے سے زیادہ قرار دادیں جاری کیں۔ ان میں ایک دو تہتر کا تعلق ان معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں سے ہے جن پر سعودی عرب نے دوست ممالک کے ساتھ دستخط کیے تھے۔