خبرنامہ

وسط ایشیا کا سنا سنایا سفرنامہ۔۔اسداللہ غالب

سلیم بٹ کا نام نوائے وقت کے قارئین کے لئے جانا پہچانا ہے، وہ اس اخبار میں باقاعدہ لکھتے رہے ، پھر ان کی سائیکل ریس جو پاکستان کے ایک کونے سے چلتی تھی اوردوسرے کونے تک پہنچتی تھی،ا س کا ڈنکا ہم ہم ساتھی رپورٹر سید سلطان عارف کی زبانی سنا کرتے تھے۔ ایک وقت آیاکہ شاید سلیم بٹ سائیکل پر چڑھے اور کابل، قندھار سے ہوتے ہوئے دریائے آمو پار کر گئے، آگے وسط ایشیا کی وسعتوں نے انہیں گلے سے لگایا۔ وہ اس علاقے میں نیشنل بنک کے پہلے سربراہ بنے اور شاید ریٹائر منٹ تک وہیں خدمات انجام دیتے رہے، انہوں نے نیشنل بنک آف پاکستان کو نیشنل بنک آف وسط ایشیا میں تبدیل کر دیا، وہ کہتے ہیں کہ کرغیزستان میں برانچ کھولنے میں انہیں ذرا دقت ہوئی کیونکہ حاکم وقت تو انہیں اجازت دینے پر تلا ہو اتھا مگر بھارتی لابی سخت مخالفت کر رہی تھی، سلطان نے کئی بار سلیم بٹ سے کہا کہ پتہ نہیں بھارتیوں کو الہام ہو جاتاہے کہ تم میرے ساتھ چائے پینے آئے ہو، بس میرے محل سے باہر قدم رکھتے ہو تو بھارتی سفارتکار آن دھمکتے ہیں مگر سلیم بٹ نے ان نا مساعد حالات کا مقابلہ کیا، اور نیشنل بنک کو اس علاقے کا قومی بنک بنا دیا۔

ازبکستان سے میرا پہلا تعارف ایک ا زبک طائفے کے ذریعے ہوا جو الحمرا میں شو کرنے آیا تھا۔ میں سیکورٹی کے حصار کو توڑتے ہوئے ازبک طائفے کے میک اپ روم میں گھسنے 8 کامیاب ہو گیا، ایک خاتون آرٹسٹ سے میں نے سوال کیا ، کیا آپ مسلمان ہیں ،ا سنے جواب میں پوری سورہ فاتحہ فر فر سنا دی، میں نے دو صفحات کا خصوصی ایڈیشن اس طائفے کی کارکردگی پر شائع کیا، اس کا چھپنا تھا کہ آپا نثار فاطمہ نے دس صفحات کا ایک شکایتی خط میرے مرشد مجید نظامی کولکھ دیا کہ یہ نوائے وقت میں طوائفوں کی پبلسٹی کا نوٹس لیا جائے، میں نے اپنے مرشد کو وہی سول جواب والی کہانی سنائی ، وہ بھی خوش ہوئے اور آپا نثار فاطمہ کا شکائتی خط بے اثر ثابت ہوا۔ان دنوں کسی وجہ سے آپا جی کے فرزند عزیز احسن اقبال میرے خلاف بولتے رہتے ہیں ۔ کوئی وجہ ہو گی۔
وسط ایشیا ہمیشہ ہمارے خوابوں کی سرزمین رہا، کبھی کوہ قاف کی پریاں یاد آتیں، کبھی یاجوج ماجوج کے لشکر جو قرب قیامت میں پہاڑوں کا سلسلہ چیرتے ہوئے دنیا کی ہر چیز کو لکڑ ہضم پتھر ہضم کی طرح ہڑپ کر لیں گے، روس کے حصے بخرے ہوئے توہم لوگ بہت خوش ہوئے کہ ایک ساتھ نصف درجن نئے مسلمان ملک ہماری برادری کا حصہ بن گئے مگر وہ نام کی حد تک مسلمان تھے، ایک بار گورنر پنجاب جنرل صفدر کے پاس ناشتے پر گیا تو انہوں نے بتایا کہ اسلام کریموف آئے تھے، وہ چلا رہے تھے کہ اپنا قرآن اپنے پاس رکھو ،اسے ہماری ریاستوں میں مت لاؤ، پھر ہمارے ادیبوں کے طائفوں کے طائفے ازبکستان جانے لگے، تاشقند، سمر قند ، بخارا کے رنگ رنگیلے سفرنامے لکھے گئے۔ سلیم بٹ ان دنوں وہیں تھے، وہ کہتے ہیں کہ ایک نوجوان صحافی اور مزاح نگار کی قسم کھا سکتا ہوں مگر باقی ادیبوں اور شاعروں نے تو وہاں واہی تباہی مچا رکھی تھی اور ان کی فرمائشیں ختم ہونے میں نہیں آتی تھیں۔
وسط ایشیا اسلامی تہذیب کا مرکز رہا ہے، بخاری شریف یہیں لکھی گئی، سائنس دان، محدث، کیمیا دان، شاعر، فلسفی یہاں پیدا ہوئے۔یہ علم و فضل کا اسی طرح کامرکز تھا جیسا بغداد تھا لیکن اس سے بڑھ کر تھا کہ یہاں تحقیقی کام اور ٹھوس کام زیادہ ہوا۔مگر یہ وسط ایشیا کریملن کی اس خواہش کی تکمیل تلے لچلا گیا کہ کسی طرح بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک پہنچنا ہے۔

گرم پانی تو کریملن کی قسمت میں نہیں لکھا تھا، اسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا پڑا اور وسط ایشاکی ریاستیں بھی آزاد ہو گئیں، یہ کہنے کو آزاد ہیں مگر سلیم بٹ کا مشاہدہ ہے کہ یہ ریاستیں آج بھی کریملن کے نظام تلے سسک رہی ہیں، میاں اپنی بیوی کی جاسوسی پر مامور ہے، بھائی ، اپنی بہن کی جاسوسی کرتا ہے، اس طرح کسی کی مجال نہیں کہ حاکم وقت کے خلاف کوئی شکائت زبان پر لا سکے۔
مگر جبر کے اس نظام کی ایک برکت یہ بھی ہے کہ ان ریاستوں میں کوئی جرم سرزد نہیں ہوتا، کسی کو دکان پر تالا لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی، گھر کا دروازہ مقفل نہیں کرنا پڑتا کیونکہ ذرا کسی نے کوئی شرارت کی تواسے ایسی کڑی سزا ملتی ہے کہ اس کی نسلیں توبہ توبہ کر اٹھتی ہیں۔کسی کی مجال نہیں کہ اجنبی کو مہمان کے طور پر گھر میں بستر مہیا کر سکے، تھانے میں بتانا ضروری ہوتا ہے، ورنہ میزبان ا ور مہمان دونوں جیل کی ہوا کھاتے ہیں اور وہ بھی عمر بھر کے لئے، پاکستان کی طرح فری فار آل ماحول کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔آزادی اظہارا ور بنیادی حقوق کے نعروں کی وہاں عیاشی میسر نہیں۔

سلیم بٹ وسط ایشیائی ریاستوں کے انسائیکلو پیڈیا ہیں، ایسی روانی سے ان ریاستوں کے شہروں، قصبوں اور دیہات کے نام لیتے ہیں جیسے وہ بچپن میں وہاں گلہ ڈنڈا کھیلتے رہے ہوں ، مگریہ ان کے حافظے ا ور یاد داشت کی خوبی ہے، زبان میں روانی ہے۔ لہجے میں گھن گرج ان کے صحت مند پھیپھڑوں کا ثبوت ہے۔
خالق کائنات نے ان علاقوں کو ہر نعمت سے نواز اہے، بہترین کپاس،معدنیات ، پٹرول اور قدررتی گیس کے ذخائر، ایٹمی میزائلوں کے اڈوں کا جال۔خوش نما مناظر، جنت ارضی کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔حسن کی جیسے بارش برسی ہو۔یہ ساری ریاستیں شہریوں کی ویلفیئر کی ذمے دار ہیں، تعلیم ،علاج، روز گار، بس ٹرام،موٹرویز کیا کچھ وہاں نہیں ، سب کچھ ہے اور وافر ہے۔مگر نہیں ہے تو انسا نی آزادی میسر نہیں، وہی کے جی بی والا سخت گیر نظام جہاں تربیت کے ابتدائی مرحلے میں پوچھاجاتا ہے کہ تمہیں اپنا کونسا رشتے دار سب سے زیادہ پیارا لگتا ہے، رنگروٹ جس عزیز کا نام لیتا ہے، افسر کی طرف سے حکم ملتا ہے کہ کل صبح اس کا کٹا ہوا سر پیش کرو۔اس طرح سیکورٹی نظام کو پتھر دل بنا دیا جاتا ہے۔جس میں رشتے ناطوں کی کوئی پہچان نہیں رہتی۔لوگوں کا کہنا ہے کہ روس سے آزادی ان کے حکمرانوں کو ملی ہے، عوام اسی طرح غلام ہیں ، کوئی حکمران اپنی بیٹی کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو بھی برداشت نہیں کرتا۔

ایسے ماحول میں سلیم بٹ کا حوصلہ ہے کہ کئی برس وہاں گزارآئے، اور کسی جرم میں پکڑے نہیں گئے، ان کے تعلقات وہاں کے حکمرانوں سے براہ راست تھے اور وہ ایک وی آئی پی کا درجہ رکھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ پاکستان کے قومی بنک کے وہاں سربراہ تھے، یہ سلیم بٹ کی انکساری،عاجزی، دوستی، ملنساری اور گھل مل جانے کی عادت تھی جس نے وہاں کے حکمران اور وہاں کی ایلیٹ ان کی گرویدہ ہو گئی تھی۔کم و بیش ان سے تس برس بعد ملاقات ہوئی مگر ایسے لگتا تھا کہ وہ کہیں گئے ہی نہیں ، یہیں کہیں رہے ہیں ،دل کے آس پاس !خوش باش، سلیم بٹ نے وقت اور فاصلے کی دوریوں کا احساس ہی نہیں ہونے دیا۔