خبرنامہ انٹرنیشنل

سعودی عرب: شہزادوں کی جیل بننے والا ہوٹل کھول دیا گیا

سعودی عرب

سعودی عرب :شہزادوں کی جیل بننے والا ہوٹل کھول دیا گیا

ریاض (ملت آن لائن) سعودی عرب میں گرفتار شہزادوں کی پرتعیش جیل بننے والا ہوٹل کھول دیا گیا، پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کے مطابق 56 افراد ابھی تک حراست ہیں جنہیں کہیں اور منتقل کر دیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں تین ماہ تک کرپشن کے الزامات میں گرفتار شہزادوں اور امراء کے لیے جیل بننے والا ہوٹل ایک بار پھر مہمانوں کے لیے کھول دیا گیا۔56 افراد ابھی تک حراست میں ہیں جنہیں ہوٹل سے کسی اور مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے :پراسیکیوٹر جنرل سعودی حکام کے مطابق بیشتر شہزادوں، اعلیٰ حکام اور امیر افراد کے ساتھ سمجھوتے طے پا گئے ہیں تاہم پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کے مطابق 56 افراد ابھی تک حراست میں ہیں۔ سعودی عرب میں یہ ہائی پروفائل گرفتاریاں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں بننے والی انسداد بدعنوانی کمیٹی کے قیام کے بعد کی گئیں اور ان میں سے زیادہ تر کو خطیر رقم کے بدلے کی گئی ڈیل کےتحت رہا کر دیا گیا ہے۔

……………………………..

اس خبر کو بھی پڑھیے…خواتین کا غیر مردوں سے چوڑیاں پہننا شریعت کیخلاف، دارالعلوم دیوبند

نئی دہلی: درسگاہ دارالعلوم دیوبند نے فتویٰ جاری کر کے کہا ہے کہ مسلم عورتوں کے گھر کے باہر غیرمردو ں کے ہاتھوں سے چوڑیاں پہننا شریعت کے خلاف ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے فتویٰ سیکشن کے صدر مفتی حبیب الرحمن خیر آبادی نے بتایا کہ ایک شخص نے ادارہ کے دارالافتا سے تحریری سوال کیا تھا کہ عورتوں کو چوڑیاں پہننے کے لئے اپنے ہاتھ غیر مردوں کے ہاتھ میں دینے پڑتے ہیں، کیا یہ مناسب ہے؟ جواب میں دارالعلوم دارالافتا نے کہا کہ غیر مردوں کے ہاتھوں سے چوڑیاں پہننا سخت گناہ ہے، اس سے ہر مسلمان عورت کو بچنا چاہیے۔ یاد رہے کہ دارالعلوم دیوبند اس سے پہلے عورتوں کے بال کٹوانے، بھوئیں بنوانے، منی سکرٹ اور جینز پہننے اور غیر مردوں کے ساتھ روزگار کرنے سے متعلق خواتین پر بندشیں لگانے کا فتویٰ بھی جاری کر چکا ہے۔