خبرنامہ انٹرنیشنل

پاکستانیو ں کا خون بہانا پڑیگا، سابق بھارتی آرمی چیف

پاکستانیو ں کا خون بہانا پڑیگا، سابق بھارتی آرمی چیف

پاکستانیو ں کا خون بہانا پڑیگا، سابق بھارتی آرمی چیف

اسلام آباد(ملت آن لائن)بھارت شروع دن سے پاکستان کیخلاف رہا ہے ،وہ پاکستان میں انتشار پھیلانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا دہشتگرد کلبھوشن یادیو اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ،اب سابق بھارتی آرمی چیف بکرم سنگھ بھی پاکستان دشمنی میں تمام حدیں پار کر گئے ہیں ،ایک بھارتی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بکرم سنگھ نے زہر اگلتےہوئے کہا کہ پاکستان میں جاری نام نہادعلیحدگی کی تحریکوں کو ہوا دینا پڑے گی،پاکستان کے مسائل بڑھانے کیلئے جلتی پر تیل ڈالنے کی ضرورت ہے، تاکہ پاکستان کی فوج اپنے ہی مسائل میں الجھی رہے ،تاکہ اس کی توجہ کشمیر اور بھارت پر نہ رہے جس کیلئے پاکستانیوں کا خون بہانا پڑے گا، اور یہ کیسے ہوگا اس کیلئے بھارت کو پاکستان کے اندر سے ہی بہت لوگ مل جائینگے،جو پیسے کیلئے بک جائینگے ۔

…………………………..

اس خبر کو بھی پڑھیے…بھارت: مساجد، مندروں اور گرجا گھروں سے غیرمجاز لاؤڈ اسپیکرز ہٹانے کا حکم

بھارت(ملت آن لائن)بھارتی ریاست اتر پردیش کی حکومت نے مساجد، مندروں اور گرجا گھروں پر بغیر اجازت لگائے گئے لاؤڈ اسپیکرز اور پبلک ایڈریس سسٹم ہٹانے کا حکم دے دیا۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاستی حکومت نے لاؤڈ اسپیکرز لگانے کے لیے اجازت نامے کے حصول کے لیے 15 جنوری تک کی ڈیڈ لائن دی ہے، جبکہ 20 جنوری کے بعد انہیں ہٹا دیا جائے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 20 دسمبر کو الہ آبادہائی کورٹ کے لکھنؤ بینچ نے ریاستی حکومت سے استفسار کیا تھا کہ آیا مساجد، مندروں اور گرجا گھروں میں لاؤڈ اسپیکرز اور پبلک ایڈریس سسٹم انسٹال کرنے کے لیے اجازت طلب کی گئی تھی یا نہیں۔ اپنے 10 صفحات پر مشتمل آرڈر میں عدالت نے ریاستی حکومت کو حکم دیا تھا کہ ایسے تمام مذہبی یا عوامی مقامات کی نشاندہی کی جائے جہاں بغیر اجازت لاؤڈ اسپیکرز لگائے گئے ہیں۔ دوسری جانب عدالتی حکم میں مذہبی اور عوامی مقامات کے منتظمین کو یہ ہدایت بھی کی گئی تھی کہ وہ لاؤڈاسپیکرز یا کسی بھی پبلک ایڈرس سسٹم کو لگانے کے لیے 15 جنوری تک اجازت نامہ حاصل کریں، دوسری صورت میں انہیں صوتی آلودگی (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) رولز 2000 کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اترپردیش کی حکومت کو اس بات کی بھی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اُن حکومتی افسران کے خلاف بھی ایکشن لے، جو عدالتی حکم کی تعمیل کروانے میں ناکام رہتے ہیں۔