خبرنامہ انٹرنیشنل

پاکستان طالبان کے خلاف کارروائی کرے: افغان صدر

پاکستان طالبان کے خلاف کارروائی کرے: افغان صدر

کابل: (ملت آن لائن) افغانستان کے صدر اشرف غنی نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان طالبان کے خلاف کارروائی کرے۔ قوم سے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں افغان صدر نے کہا کہ کابل کے لیے ایک نیا سکیورٹی منصوبہ پیش کیا جا رہا ہے۔ افغان صدر نے کہا کہ پاکستان کو ایسے ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کیے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اشرف غنی نے اپنے خطاب میں پاکستان کو طالبان کا گڑھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم انتظار کر رہے ہیں کہ پاکستان کوئی اقدام کرے۔ انہوں نے مزید کہا یہ حملہ ہمارے مردوں، عورتوں یا بچوں پر نہیں بلکہ پوری افغان قوم پر ہوا ہے اور اس کا جواب بھی قومی سطح پر ہونا چاہیے۔ اشرف غنی نے بتایا کے ان حملوں کے الزام میں 11 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے اور ان کی مدد کرنے والے نیٹ ورک کی تفصیلات بھی پاکستان کو دے دی گئی ہیں۔اشرف غنی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کابل حملے کے 11 ملزم گرفتار کر لئے، نیا سکیورٹی منصوبہ کل پیش ہو گا۔ پاکستان طالبان کا گڑھ ہے، چاہے 100 سال گزر جائیں افغان بدلہ ضرور لیں گے۔

………………………………….

اس خبر کو بھی پڑھیے…کوئی ملک القدس میں سفارتی مشن قائم نہ کرے: عرب لیگ

قاہرہ: (ملت آن لائن) عرب لیگ کے وزرا خارجہ نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی 1980 میں منظور کی گئی قرارداد 478 پر عمل کرتے ہوئے بیت المقدس شہر میں سفارتی مشن قائم کرنے سے احتراز کریں۔ قاہرہ میں عرب لیگ کے صدر دفتر میں ہونے والے خصوصی اجلاس کے دوران عرب وزرا خارجہ نے ایک بار پھر باور کرایا کہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور وہاں سفارتی مشن منتقل کرنے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ یکسر مسترد کیا جائے گا۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں امن کو بطور ہتھیار تھامے رکھنے اور عرب اسرائیل تنازع 2002 کے عرب امن منصوبے کے مطابق حل کرنے کی تاکید کی گئی۔ بیان میں زور دیا گیا کہ امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جائے۔ ادھر فلسطینی وزیر برائے اوقاف ومذہبی امور یوسف ادعیس نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے جنوری 2018 کے دوران تاریخی جامع مسجد ابراہیمی میں 49 بار اذان پر پابندی لگائی، جس پر فلسطینی سراپا احتجاج ہیں۔