خبرنامہ خیبر پختونخوا

مردم شماری میں بیرون ممالک میں کام کرنے والے افراد کو شامل نہ کرنا خیبر پختونخوا کے ساتھ زیادتی ہے

پشاور (ملت آن لائن + آئی این پی) سینئر وزیر بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا و پارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ مردم شماری میں خیبرپختونخوا سے بیرون ممالک میں کام کرنے والے افراد کو شامل نہ کرنا صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ زیادتی ہے۔ مستقبل میںآبادی کے لحاظ سے وسائل تقسیم ہوں گے ۔اس کے نتیجے میں اعداد و شمار پر آئندہ قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں کا تعین ہوگا ۔ ان خیالات کااظہار پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ این ایف سی ایوارڈ کا اجراء ہوگا اور وسائل تقیسم ہوں گے ۔اگر صحیح مردم شماری نہ ہوگی اور بیرون ممالک میں کام کرنے والے خیبرپختونخوا کے لوگوں کو اس میں شمار نہیں کیا جائے گا تو ہمیں وسائل میں وہ حصہ نہیں ملے گا جو ہمارا حق ہوگا ۔صوبے کے عوام کو مردم شماری سے باہر رکھنا انصاف کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے اور یہ خیبرپختونخوا کے آبادی کو کم کرنے کی سازش ہے ۔اگریہ مسئلہ حل نہ کیاگیا تو اس سے مردم شماری مشکوک ہوگی اور کسی کا اس پر اعتماد نہیں رہے گا ۔صوبے کے حق کے لیے آواز اٹھارہاہوں ۔اگر ہمارے بات پر کان نہ دھرا گیا تو اس کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے ۔اسمبلی فلور پر آواز بلندکریں گے ۔کابینہ میں بات کریں گے اور پورے صوبے کے عوام کو متحد کر کے تحریک شروع کریں گے ۔اس کے حیثیت کو چلینج کریں گے ۔ سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے کہاکہ پوری دنیا میں پاکستان سے ہر چوتھا شخص خیبرپختونخوا سے ہے اور اس وقت تقریبا” سترلاکھ افراد خیبرپختونخوا سے بیرونی دنیا میں محنت مزدوری کر رہے ہیں اس کو نظر انداز کرنا صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس مسئلہ کو ہم نے صوبائی کابینہ میں بھی اٹھایا ہے اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے نام خط بھی لکھا ہے ۔ تمام سیاسی جماعتیں سیاست سے بالا تر ہوکر صوبے کے عوام کے مفاد میں اس ایشو پر ہمارا ساتھ دیں ۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت اور مردم شماری بیورو اس بات کی وضاحت کریں اور اگر اس مسئلے کا حل نہیں نکالاگیا تو اس سے مردم شماری کا عمل مشکوک ہوگا اور خیبرپختونخوا کے عوام ، سیاسی جماعتیں اور صوبائی حکومت اس کے خلاف تحریک چلائیں گے ۔