خبرنامہ سندھ

سندھ :پولیس اہلکارفوج کی معاونت سےبھرتی کیے جائیں گے: نثار

اسلام آباد:(اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس میں 20 ہزار بھرتیوں کے لیے پاک فوج معاونت کرے گی تاکہ بھرتیوں کے نظام کو شفاف بنایا جا سکے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ 2013 میں ہر روز 5، 6 دھماکے ہوتے تھے لیکن گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے سیکیورٹی صورت حال میں بہت بہتری آئی، حالات مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئے لیکن ہم دہشت گردوں کے خلاف زمینی جنگ جیت رہے ہیں اس لئے ایک دو واقعات سے قوم کو مایوس نہیں ہونا چاہیئے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے حالات بہتر ہوں لیکن کئی مہینوں بعد ایک واقعہ ہو جائے تو پچھلی ساری محنت ضائع ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کو قبول کیا جا رہا ہے، امریکا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 45 فیصد کمی آئی ہے جب کہ دہشت گردی کے واقعات میں ہونے والی اموات میں 39 فیصد کمی آئی، کراچی جرائم میں پہلے چھٹے نمبر پر تھا لیکن اب 32 ویں نمبر پر ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شہر کے حالات میں بہتری آئی ہے۔ امجد صابری کے قاتل اور اویس شاہ کو اغوا کرنے والے ملزمان بچیں گے نہیں اور انہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ چوہدری نثار نے کہا کہ کراچی کو بھی اسلام آباد کی طرز کے سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت کیمروں سے لیس کریں گے، عید کے بعد کرائم ڈیٹا بیس فریم ورک پر کام شروع کیا جائے گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق نے تمام صوبوں کی بھرپور معاونت کی ہے اور آئی بی نے سب سے زیادہ کراچی کو مدد فراہم کی، الزام لگانے والوں کو آئینہ دکھانے کا بہت دل چاہتا ہے لیکن ناقدین کو بتانا چاہتا ہوں کہ دہشت گردی پر سیاست اور پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہوتی۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف نفسیاتی جنگ جیتنے کے لئے علمائے کرام کو بھی متحرک کریں گے اور انھیں بھی ایک صفحے پر لائیں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں میڈیا کا کردار بھی بہت اہم اور قابل تعریف رہا ہے، سندھ پولیس میں 20 ہزار بھرتیوں کے لئے پاک فوج معاونت کرے گی تاکہ بھرتیوں کے نظام کو شفاف بنایا جا سکے۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کا کلیدی کردار ہے، ہماری سیکیورٹی فورسز کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں بھتہ خوری، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کے واقعات میں واضح کمی آئی ہے، دہشت گردوں کے گرد زمین تنگ ہوئی تو انہوں نے ہائی ویلیو سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو مایوس نہیں ہونا چاہیئے بلکہ آج دہشت گرد مایوس ہیں، ہم سب کو احساس ہونا چاہیے کہ سیکیورٹی صورت حال میں بہتری آئی ہے اس میں ہماری افواج اور دیگر فورسز کا خون شامل ہے، ہم ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جس میں ہم اور ہماری فورسز تو سامنے ہیں لیکن ہمارا دشمن آبادیوں میں چھپا ہوا ہے اور ان سے بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، جب کسی کو پکڑ لیا جاتا ہے تو سیکیورٹی فورسز کو ان کے خلاف کارروائی کے لئے بہت سے قانونی و آئینی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ کراچی میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات پر جس طرح پوسٹ مارٹم ہوا اس سے ہماری فورسز کے جوانوں کا مورال کیا بلند ہوگا، اس وقت تو پورے قوم کو ہماری سیکیورٹی ایجنسیوں کا حوصلہ بڑھانا چاہیئے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں اور ملک میں خانہ جنگی کی صورت ہے لیکن کوئی ایک افسوسناک واقعہ رونما ہوتا ہے تو آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو جاتی ہیں لیکن ہمیں عوام میں مایوسی پھیلانا ہمارے دشمن کی حکمت عملی کا حصہ ہے اس لئے ہمیں دہشت گردوں کے خلاف یکجا اور ثابت قدم ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض عناصر بہت غلط گیم کھیل رہے ہیں، دیکھنا ہو گا کہ سوشل میڈیا پر کہیں ’را‘ تو عوام میں مایوسی نہیں پھیلا رہی۔ اقتصادی راہداری منصوبہ جہاں ہمارے لئے بہت اہم ہے اسی طرح سی پیک ہمارے دشمنوں کے لئے اہم ترین ٹارگٹ ہے لیکن دہشت گرد جان لیں کہ ہمارا عزم اور حوصلہ کسی صورت کمزور نہیں ہوگا۔